Ancient Indus Valley civilization Artifacts| قدیم وادی سندھ کے نوادرات

قدیم وادی سندھ کی تہذیب کا شمار دنیا کی چند قدیم ترین تہذیبوں میں کیا جاتا ہے۔ کانسی کے زمانے کی اس تہذیب کی عمر کا اندازہ تقریبا چار ہزار سال بتایا جاتا ہے۔ تین ہزار تین سو قبل مسیح سے لیکر تیرہ سو قبل مسیح کے دوران، جنوبی ایشیا کے مختلف علاقوں میں پروان چڑھنے والی اس تہذیب کا شمار اس عہد کی مہذب ترین تہذیبوں میں کیا جاتا تھا-

Indus Valley Civilization / FNCTV All rights reserved

پنجاب اور سندھ میں پروان چڑھنے والی اس قدیم تہزیب کا سراغ اس وقت لگا، جب بیسویں صدی کے آغاز میں پہلے ہڑپہ اور پھر موہنجو دڑو شہروں کی کھدایئاں شروع کی گیئں۔ ملنے والے آثار قدیمہ اور نوادرات نے اس قدیم تہذیب کے بارے میں دلچسپ انکشافات کیئے۔

حاکم اعلی کا مجسمہ

King Priest Statue- Indus Valley Civilization Artifacts/ FNCTV

موہنجو دڑو سے ملنے والا، کنگ پریسٹ یا پادری بادشاہ کا مجسمہ اس قدیم تہذیب کے بارے میں ایک اہم دریافت ہے۔ حاکم اعلی کہلانے والے اس مجسمے نے آج کے مقامی سندھی بزرگ کی طرح داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ کندھوں سے لپٹی ہوئی شال کا سٹائل بھی آج تک سندھی اجرک ڈیزائن میں جھلکتا ہے۔مٹی سے بنے اور بھٹی میں پکے اس مجسمے کا تعلق قدیم تہذیب کے آخری پیریڈ سے جوڑا جاتا ہے۔

یونی اور لنگم

Yoni- Harappa Museum, Pakistan / FNCTV

قدیم تہذیب کے مذہبی عقائد کے بارے میں یقین سے اندازہ تو نہیں لگایا جا سکتا ، لیکن ملنے والے نوادرات کی روشنی میں چند مفروضات بنائے جا سکتے ہیں۔ یونی اور لنگم،کی پوجا آج بھی ہندو عقائد کا حصہ ہے۔ ان اعضا تناسل و تولید کو، قدیم ہندو خدا شیو، اور پاربتی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ آج کے مقامی تھر صحرا میں پانئے جانے والے قدیم خانہ بدوش ہندو قبائل، جن میں سے زیادہ کا تعلق اچھوت ہندو ذاتوں سے ہے، آج بھی ان قدیم خداوں پر یقین رکھتے ہیں۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ قدیم وادی سندھ کے لوگ رام اور رامائن کے زمانے اور، ویدوں کی جدید تاریخ سے بھی بہت پہلے، جادو کے عہد کے لوگ تھے۔

Shiv Linga @ Harappa Museum Pakistan / FNCTV

رقاصہ کی مورتی

Dancing Girl Statue- Mohinjo Daro Museum Pakistan / FNCTV

رقاصہ کی مورتی ، موہنجو دڑو کے کھنڈرات سے دریافت ہونے والی ایک اہم کانسی کی مورتی ہے۔ کولہوں اور کمر پر ہاتھ رکھے، یہ کسی کتھک ڈانسر کی معلوم ہوتی ہے۔ نسل کے لحاظ سے اس دوشیزہ کا تعلق جنوبی ہندوستان سے محسوس ہوتا ہے۔ اگر یہ کتھک ڈانسر ہے، تو قدیم خدا شیو کی کوئی نرتکی بھی ہو سکتی ہے۔ جو کتھک رقص کے ذریعے دیوتا کے حضور مناجات پیش کیا کرتی تھیں۔ جو بھی ہے، یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا، مگر یہ ایک خوبصورت شاہکار ہے۔ایک نوجوان حسینہ کی مورتی، جو فن اور خوبصورتی کا امتزاج ہے۔

Statue of Dancing Girl- Indus Valley Civilization / FNCTV

یونی کورن یا خیالی جانور کا مجسمہ

Unicorn- Mohinjo Daro Museum Pakistan / FNCTV

یونی کورن ایک فرضی جانور ہے، جس کے کچھ نمونے قدیم وادی سندھ کے نوادرات اور مجسموں پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک سینگ رکھنے والا، گھوڑے جیسا یہ فرضی جاندار، قدیم وادی سندھ میں دیومالائی حیثیت رکھتا ہوگا۔ ہمعصر قدیم یونانی تہذیب میں بھی اس خیالی جانور کو ایک متبرک درجہ حاصل تھا۔ ایک قیاس ہے کہ یونی کورن خداوں کا پیغام لانے والا کوئی فرشتہ بھی ہو سکتا ہے، جسے مقامی تہذیب میں ایک متبرک دیوتا کی حیثیت حاصل تھی۔

بیل اور بیل گاڑی کے کھلونے

Bull Cart- Indus Valley Civilization / FNCTV
The Indus Valley Civilization Bull/ FNCTV

قدیم وادی سندھ کانسی کے زمانے کی تہذیب تھی، جو لوہے کی دریافت سے پہلے ہی زوال پذیر ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا، کہ لوہے کی دریافت اور جدید زراعت کی تاریخ سے پہلے بھی، یہاں کے لوگ زراعت کے ذریعے ہی زندگی کا گزر بسر کرتے تھے۔ بیل زرعی معاشرت کا ایک اہم ترین جانور تھا، جو نہ صرف ہل چلانے کے کام آتا، بلکہ سامان کو ترسیل کرنے کا بھی ایک بنیادی وسیلہ تھا۔ بیل کی گائے کو ایک دیو مالائی ماں کا درجہ حاصل تھا۔ جس کی پوجا پاٹ روز مرہ معاشرت کا حصہ تھی۔ ایسے میں بیل کو زرعی معاشرت کا باپ مان لیا جائے، تو بات کافی فطری محسوس ہوتی ہے، مگر اس بات کے شواہد نہیں ملتے کہ بیل کو کوئی ایسا لقب دیا گیا ہو۔بیل اور بیل گاڑی کا استعمال تو آج بھی پاکستان اور انڈیا کے دور دراز علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے-اسکا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ موہنجو دڑو اور ہڑپہ جیسے قدیم شہر تو کسی وجہ سے ختم ہو گئے، مگر وہ ثقافت ہزاروں سال بعد بھی ان علاقوں میں چلتی رہی اور صنعتی عہد اور جدید شہری ترقی کے بعد اب ذرا کم ہو کر رہ گئی ہے۔

Indus Valley Civilization cities- Harappa & Mohinjo Daro / FNCTV

مٹی کے برتن

Indus Valley Civilization Pottery- Harrapa Museum Pakistan / FNCTV

مٹی کے برتن، ہڑپہ، موہنجودڑو اور کوٹ ڈی جی کے کھنڈرات سے ملنے والی اہم نوادرات ہیں، جو قدیم لوگوں کی روز مرہ معاشرت سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ ٹیرا کوٹا یا مٹی سے بنے یہ برتن روائتی بھٹی پر پکائے جاتے تھے۔ برتنوں پر موجود کالے، لال اور سبز نقش و نگار، قدیم عہد کے لوگوں کی فنکارانہ صلاحیتوں کا منہ بولا ثبوت ہیں۔ تینوں فطری رنگوں کے امتزاج سے بنائے گئے یہ نقوش بولتے ہیں، ورنہ ابھی تک قدیم عہد کی زبان کو تو بہر حال ڈی کوڈ نہیں کیا جا سکا ہے۔ روزمرہ کے تمام برتن ہی ان لوگوں کے استعمال میں ملتے ہیں۔جگ پلیٹ گلاس سے لیکر ذخیرہ کرنے کے برتنوں تک، اور پھول دانوں سے لیکر دیوی دیوتا کی مورتیوں تک، قدیم وادی سندھ کی تہذیب کو ہم ٹیرا کوٹا تہذیب بھی کہ سکتے ہیں۔

Terracotta Pottery- Indus Valley Civilization / FNCTV

قدیم اوزار اور ہتھیار

Indus Valley Civilization Bronze tools & weapons / FNCTV

قدیم وادی سندھ میں لوہے کے اوزار اور ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ فطری بات ہے، جو شہر کانسی کے زمانے سے آگے ہی نہ بڑھ سکے ہوں، وہاں لوہے کے اوزار ہونا نا ممکن سی بات ہے۔ کانسی سے بنے کلہاڑے، چھریاں، اور پتھر کے بنے کچھ اوزار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہتھیار کا استعمال کم، اور اوزار کا استعمال زیادہ تھا۔ زرعی مقاصد اور جانوروں سے حفاظت کے بنیادی اوزار تہذیب نے پیدا کر لئے تھے۔ ایسا بھی کوئی اشارہ نہیں ملا، کہ اس تہذیب کے شہروں پر کسی بیرونی حملہ آور نے لوہے کے ہتھیاروں سے حملہ کیا ہو، تاراج اور غارت گری کی ہو، ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ دریاوں کے کناروں پر موجود ہونے کی وجہ سے بڑے سیلابوں نے ان شہروں کو تباہ کردیا ہوگا۔

Ancient Civilizations- Bronze Age Weapons / FNCTV

قدیم زیورات

Indus Valley Civilization Jewelry / FNCTV

آرائش اور عورت، یہ دونوں لفظ بھی انسانی تہذیب جتنے قدیم تصور کئے جا سکتے ہیں۔ قدیم وادی سندھ کی عورت کے ہاں بھی آرائش جمال کے سب ہنر موجود تھے۔ کانسی اور ٹیرا کوٹا سے بنے زیورات ہر قسم، ہر مقصد اور ہر موقعے کیلئے بنائے جاتے تھے۔

Indus Valley Civilization Artifacts / FNCTV

ہاتھوں کی چوڑیاں، کنگن، گلو بند، ہار، کانوں کی بالیاں اور بندے، الغرض کہ زیورات کی تمام بنیادی شکلیں اور ڈیزائن پیٹرنز قدیم لوگوں نے دریافت کر لیئے تھے۔ اس کے علاوہ پھولوں کے گجرے اور ہار بھی کثرت سے استعمال کئے جاتے ہوں گے۔

Ancient Fashion- Indus Valley Civilization / FNCTV

قدیم وادی سندھ کے کلچر کا عکس، آج بھی تھر قبائل، اور عمومی طور پر سارے سندھ کی ثقافت میں جھلکتا ہے۔یہ بات تو حقیقت ہے کہ یہ قدیم شہر تباہی کا شکار ہو کر زمین کی نچلی تہ میں چلے گئے۔ لیکن انکی ثقافت اور تمدن، بر صغیر پاک و ہند کی ہزاروں سالہ ثقافت کی بنیاد ہے۔ جہاں جہاں بھی، ابھی پکی سڑک نہیں پہنچی، صنعتی ترقی نہیں ہوئی، وہاں وہاں یہ قدیم ثقافت اپنے قدیم رنگ میں جھلکتی نظر آتی ہے۔

Research & Script: Abid Raza

For

foodnculture.tv

foodnculturetv@gmail.com

feedback@foodnculture.tv

Indus Valley Civilization Artifacts / FNCTV

1 thought on “Ancient Indus Valley civilization Artifacts| قدیم وادی سندھ کے نوادرات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *